اتوار 1 مارچ 2026 - 00:22
مال کا پانچواں حصہ اہل بیت علیہم السلام کا حق ہے

حوزہ/ خمس کی ادائیگی صرف حساب و کتاب نہیں، بلکہ ایک عہد ہے—خدا سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور اہلِ بیت علیہم السلام سے۔ یہ وہ نورانی رشتہ ہے جو مومن کی معیشت کو عبادت، اس کی دولت کو امانت، اور اس کی زندگی کو ولایت کی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔

ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | قرآنِ حکیم کی آیتِ خمس اسلامی نظامِ معیشت کی وہ درخشاں قندیل ہے جو ایمان، ولایت اور عدلِ اجتماعی کے باہمی ربط کو واضح کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (سورہ انفال، آیت 41)

اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ، رسول، رسول کے قرابتدار، ایتام، مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے اگر تمہارا ایمان اللہ پر ہے اور اس نصرت پر ہے جو ہم نے اپنے بندے پر حق و باطل کے فیصلہ کے دن جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں نازل کی تھی اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔

یہ آیت محض ایک مالی حکم نہیں بلکہ ایک عقیدتی میثاق ہے۔ “إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ” کے الفاظ اس امر پر شاہد ہیں کہ خمس کی ادائیگی ایمان کے جوہر سے پیوست ہے۔ گویا مومن کی کمائی میں بھی خدا کی حاکمیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت جلوہ گر ہونی چاہیے۔

"خمس" کے معنی پانچویں حصے کے ہیں، مگر قرآنی تعبیر “مِن شَيْءٍ” اس کے دائرۂ اطلاق کو وسیع کرتی ہے۔ اگرچہ شانِ نزول کے اعتبار سے یہ آیت یومِ بدر کی غنیمتوں سے متعلق ہے، لیکن اہلِ بیت علیہم السلام کی تفسیری روایتیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ “غنمتم” ہر حاصل شدہ منفعت کو شامل ہے—خواہ وہ تجارت کا نفع ہو، زمین کی پیداوار ہو یا کسی اور جائز ذریعہ سے حاصل شدہ اضافہ ہو۔

یہاں قرآن مالیات کو روحانیت سے جوڑتا ہے؛ مال محض مادّی سرمایہ نہیں بلکہ امانت ہے جس میں الٰہی حق مضمر ہے۔

آیت میں خمس کو 6 عناوین کے تحت بیان کیا گیا: "لِلَّهِ، لِلرَّسُولِ، لِذِي الْقُرْبَىٰ، الْيَتَامَىٰ، الْمَسَاكِينِ، ابْنِ السَّبِيلِ"

ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی توضیحات سے معلوم ہوتا ہے کہ “لِلَّهِ” اور “لِلرَّسُولِ” کا حصہ درحقیقت منصبِ قیادتِ الٰہیہ کی طرف پلٹتا ہے، جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امامِ معصومؑ کو منتقل ہوا۔

امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب “لِلَّهِ” کے حصے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: "وہ رسولؐ کے لئے ہے، اور جو رسولؐ کے لئے ہے وہ امام کے لئے ہے۔" (وسائل الشیعہ، جلد 9، صفحہ 512)

یہ بیان خمس کو محض خیرات نہیں بلکہ ولایت کے نظام کی مالی بنیاد قرار دیتا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے “وَلِذِي الْقُرْبَىٰ” کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: "اس سے مراد رسول اللہؐ کے قرابتدار ہیں۔" (وسائل الشیعہ، جلد 9، صفحہ 517)

دیگر روایات سے واضح ہوتا ہے کہ اس قرابت سے مراد وہ خاص ہستیاں ہیں جنکی مطلقہ پاکیزگی کا قصیدہ آیت تطہیر ہے۔ یوں خمس کا ایک بنیادی مقصد اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت میں مال پیش کرنا ہے۔ البتہ توجہ رہے کہ جس طرح معبود ہماری عبادتوں کا محتاج نہیں اسی طرح عباد اللہ الصالحین و المخلصین یعنی اہل بیت اطہار علیہم السلام ہمارے مال کے محتاج نہیں ہیں۔

امام جعفر صادق فرماتے ہیں: "جب اللہ نے ہم پر زکات کو حرام قرار دیا تو ہمارے لئے خمس نازل فرمایا… صدقہ ہم پر حرام ہے اور خمس ہمارے لئے فریضہ ہے۔” (فقہ القرآن، جلد 1، صفحہ 262)

یہ ارشاد اس نکتہ کو روشن کرتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم کے کو عام صدقات سے بلند رکھا گیا تاکہ ان کی قیادت کسی مالی انحصار کی محتاج نہ ہو۔ خمس دراصل ان کی کرامت اور منصب کی عظمت کا غماز ہے۔

البتہ اس نکتہ کی جانب بھی توجہ ضروری ہے کہ اسلامی معیشت میں خمس دو کردار ادا کرتا ہے: نظامِ قیادت کی کفالت اور مستحقینِ سادات کی اعانت

اس تقسیم کے ذریعہ نہ صرف دینی اداروں، علمی مراکز اور تبلیغی سرگرمیوں کو استحکام ملتا ہے بلکہ ساداتِ محتاج، یتیم اور مسافر بھی باعزت طریقہ سے سہارا پاتے ہیں۔

یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں عبادت اور معاشرت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں۔ خمس کی ادائیگی دراصل اس امر کا اعتراف ہے کہ فرد کی کمائی سماج اور دین دونوں کی امانت ہے۔

جیسا کہ آیت میں “یوم الفرقان” کا حوالہ—جس سے مراد معرکۂ بدر ہے—یہ پیغام دیتا ہے کہ جس دن حق و باطل میں امتیاز ہوا، اسی دن اسلامی معیشت کی بنیاد بھی عدل پر رکھی گئی۔ جس طرح میدانِ جنگ میں نصرتِ الٰہی شرطِ ایمان بنی، اسی طرح میدانِ معیشت میں خمس کی ادائیگی ایمان کی علامت ہے۔

دور حاضر جسے عصر غیبت کہا جاتا ہے، اس میں امام علیہ السلام کے حصے کو جامع الشرائط مجتہد کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسے دین کی نشر و اشاعت، حوزاتِ علمیہ، رفاہِ عامہ اور مستحقین کی اعانت میں صرف کرے۔ یوں خمس ایک زندہ و متحرک ادارہ ہے جو ہر دور میں دین کی بقا کا ضامن بنتا ہے۔

خمس کی ادائیگی دراصل نفس کی تطہیر بھی ہے۔ جب مومن اپنی کمائی کا پانچواں حصہ رضائے الٰہی کے لئے پیش کرتا ہے تو وہ مال کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ عمل حرص کو قناعت میں بدل دیتا ہے، انانیت کو ایثار میں ڈھال دیتا ہے اور دولت کو عبادت کا وسیلہ بنا دیتا ہے۔

لہذا قرآن اور روایات کی روشنی میں خمس: ایمان کی صداقت کا معیار ہے، اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت کا عملی اظہار ہے، اسلامی عدلِ اجتماعی کا ستون ہے اور دینی قیادت کی خودمختاری کا ضامن ہے۔

خمس کی ادائیگی صرف حساب و کتاب نہیں، بلکہ ایک عہد ہے—خدا سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور اہلِ بیت علیہم السلام سے۔ یہ وہ نورانی رشتہ ہے جو مومن کی معیشت کو عبادت، اس کی دولت کو امانت، اور اس کی زندگی کو ولایت کی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha